اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، امریکہ نے تقریباً 47 سال بعد شام کو ’’دہشت گردی کی سرپرست ریاستوں‘‘ کی فہرست سے خارج کر دیا ہے۔ واشنگٹن نے اس کے ساتھ ہی جبهة النصرہ کو بھی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست سے نکال دیا اور اس سے وابستہ بعض شخصیات پر عائد پابندیاں ختم کر دیں، تاہم کچھ افراد بدستور امریکی پابندیوں کی فہرست میں شامل ہیں۔
یہ فیصلہ شام کی عبوری حکومت کے لیے امریکی حمایت کے تسلسل میں کیا گیا ہے اور اسے دمشق پر عائد وسیع پابندیوں کے خاتمے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب شام اور اسرائیل کے درمیان سکیورٹی مفاہمت کا عمل تیز ہو رہا ہے۔ اس سے کچھ ہی عرصہ قبل شام کے وزیر خارجہ اسعد الشیبانی نے اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے سربراہ رومان گوفمن سے ملاقات کی تھی۔ دونوں جانب سے امریکی نگرانی میں مشترکہ شامی۔اسرائیلی آپریشن روم قائم کرنے پر اتفاق کی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں۔ اس پیش رفت کو سکیورٹی معاہدے اور مستقبل میں تعلقات معمول پر لانے کی کوششوں کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔
شام کو کئی دہائیوں تک امریکی فہرست میں شامل رکھنا دمشق کے خلاف متعدد پابندیوں کی قانونی بنیاد بنا رہا، جس کے نتیجے میں شام کے اقتصادی تعلقات اور غیر ملکی سرمایہ کاری بھی محدود رہی۔
اب اس فہرست سے اخراج نظری طور پر شام کے لیے عالمی مالیاتی اداروں سے روابط اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کی سرگرمیوں کی راہ ہموار کر سکتا ہے، خصوصاً اس لیے کہ امریکہ اس سے قبل بھی کئی اہم پابندیاں، جن میں قیصر قانون کے تحت عائد پابندیاں بھی شامل تھیں، ختم کر چکا ہے۔
تاہم سوڈان سمیت دیگر ممالک کا تجربہ ظاہر کرتا ہے کہ امریکی پابندیوں کے خاتمے کا لازمی مطلب یہ نہیں کہ فوری طور پر غیر ملکی سرمایہ کاری شروع ہو جائے گی یا معیشت تیزی سے بحال ہو جائے گی۔
دوسری جانب اس فیصلے کا قسد اور نام نہاد ’’خودمختار انتظامیہ‘‘ کے خاتمے کے اعلان کے ساتھ سامنے آنا بھی قابل توجہ ہے۔ اس پیش رفت سے شام کی عبوری حکومت کے ہاتھوں میں اقتدار کے مزید ارتکاز کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ایسے حالات میں دمشق جنوبی علاقوں، بالخصوص سویدا میں اپنی گرفت مضبوط کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ اسرائیل جنوبی شام میں فوجی کارروائیوں اور اپنے اثر و رسوخ کے علاقوں کے قیام کے ذریعے اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
مجموعی طور پر شام کا امریکی فہرست سے اخراج دمشق کی قانونی اور اقتصادی تنہائی کے ایک بڑے حصے کے خاتمے کی علامت ہے، لیکن اس کے ساتھ یہ تاثر بھی مضبوط ہوتا ہے کہ واشنگٹن نئی علاقائی صف بندی میں شامی حکومت سے اسرائیل، ترکی اور لبنان سمیت خطے کے اہم فریقوں کے ساتھ مخصوص سیاسی اور سکیورٹی ذمہ داریاں نبھانے کی توقع رکھتا ہے۔
آپ کا تبصرہ